Latest posts

Muhammad Ali Jinnah with Liaquat Ali Khan

Liaquat’s singular contribution – today is the 61st death anniversary of Liaquat Ali Khan

Nawabzada Liaquat Ali Khan was, of course, the Prime Minister of Pakistan from August 15,…

email

Read the rest of this entry

Open Close

قائد کا فرمان اور قوم کا ارمان



دیکھ فقیرا رویا …..  گمنام خان کے قلم سے

کچھ عرصہ پہلے وطنِ عزیز میں گھڑیاں آگے کی گئیں تھیں او گھڑیاں کیا  آگے ہوئیں، سمجھو وقت ہی بدل گیا۔ یوں تو ہم “زندہ قوم” ہیں بلکہ مستند زندہ قوم ہیں کیونکہ بشمول بھٹوشہید، بی بی شہید کے اور بھی بہت سارے شہید (شہیدوں سے معذرت کے ساتھ) نہ صرف زندہ جاوید ہیں بلکہ آج بھی ملکی معملات پر علمِ بالا سے مضبوط پکڑ رکھے پوئے ہیں۔وہ تو خیر ہوئی جو  گاندھی جی ۳۰ جنوری ۱۹۴۸ کو پاکستان میں نہ تھے، ورنہ نہ صرف اس “روادار” قوم نے شہیدوں کی لسٹ میں ایک شہید کا اور اضافہ کر دینا تھا بلکہ ۳۰ جنوری کی چھٹی بھی پکی تھی۔  اب فیصلہ آپ کرلیں، جب ہم کسی کو مرنے ہی نہیں دیتے تو پھر ہمارے زندہ قوم ہونے میں شک کیوں؟ گمنام خان کے گمنام رہ جانے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ خان قلم بہکتا بہت ہے، حالنکہ ۱۸ گھنٹے کام کرنے کے بعد بہکنا سمجھ آتا ہے لیکن اس کو تو خان بہت سنبھال کر رکھتا ہے، ۱۸ منٹ بھی گھسنے نہیں دیتا، پھر؟ شائد نام میں مشابہت کا اثر ہے، خود کو “قلم” کے بجائے اول و آخر ق اور م کی مناسبت سے “قائم” سمجھ پیٹھتا ہے اور سرِشام لڑکھڑانے لگتا ہے اورلڑکھڑاہٹ بھی ایسی کہ “بھنگی” بھی کیا لڑکھڑاتا ہوگا….. آپ پھرغلط سمجھ رہے ہیں! راقم اس بھنگی کی بات نہیں کر رہا جو علیٰ الصباح “فراغتیں” سمیٹ کر فراغت حاصل کر لیتا ہے بلکہ ذکر اس مسیحا کا ہے جس سے قوم کا دکھ دیکھا نہیں جاتا اور وہ شدتِ جذبات میں دیسے جڑی بوٹیوں سے غم غلط کرتے ہیں۔ ہم نے پوچھا، شاہ جی، غم غلط کرے کے ماڈرن، “پروفیشنل” اور آسان طریقے بھی تو ہیں، پھر اتنا تردد کیوں؟ ہونٹوں پہ اِک مہربان مسکراہٹ لئے، اک قلندرانہ شان سے گویا ہوئے، “وہ حرام ہے…”

یہ تو تھیں بہکے قلم کی “خرافات” ورنہ آج موضوعِ سخن “لال پری” ہے نہ ہی کوئے “پری وش” بلکہ بات ہو رہی تھی اس زندہ قوم کی جن کی گھڑیاں تو آگے گئیں، لیکن وقت پیچھے کو چلا۔ ہم قائدِ اعظم کا احسان دل وجاں سے مانتے ہیں کہ انہوں نے ہمیں آزادی دی لیکن جمہوریت میں موجودہ اصولی اختلاف کی گنجائش کا فائدہ لیتے ہوئے یہ ضرور کہوں گا کہ عزتِ مآب جناب جناح صاحب، بھئی آپ کو ملک دینا تھا دے دیتے یہ ساتھ میں اتحاد، ایمان اور تنظیم کی تعلیمات دے کر کیا ملا آپ کو؟ چلو وہ دی سو دی، اب یہ جو پچاسیوں بار آپ نے پابندئ وقت کا لیکچر دیا وہ کیوں؟ اور سونے پہ سہاگہ پھر عملی مظاہرہ بھی؟ معاف کیجئیے گا، آپ نے احسانِ عظیم تو کیا لیکن من حیث القوم پابندئ وقت پہ ہمارے کچھ شدید تحفظات ہیں اور آپ کو ہمیں یہ موقع دینا ہی ہو گا کہ ہم آپ کو اپنے اصولی موقف سے آگاہ کر سکیں ۔

بادئ النظر میں معمولی نظر آنے والا “پابندئ وقت” کا یہ معماملہ اتنا سیدھا ہرگز نہیں جتنا آپ سمجھ رہے ہیں۔  ہم اس بات سے ہرگز انکار نہیں کہ پابندئ وقت ایفائے عہد کے زمرے میں آتی ہے اور سنتِ نبویﷺبھی ہے۔ لیکن ذرا آپ ذہن پہ  پڑی ہوئی صدیوں کی دھول ذرا جھاڑیں تو آپ کو “گورے آقا”اسی سنتِ نبویﷺ کی پابندی کرتے نظر آئیں گے۔ آپ کو پتہ ہے کہ یہ گورے وہ لوگ ہیں جو باتھ روم “کرنے” کے بعد پانی نہیں بلکہ “ٹشو” استعمال کرتے ہیں؟ اب آپ خودہی یہ بتائیں کہ ہم کیونکر وہ کام، یعنی پابندئ وقت، کر سکتے ہیں جو غلیظ ملیچھ گورے کیا کرتے تھے؟ نہ جی نہ، آپ  کریں تو کریں لیکن ہم سے یہ ذلت برداشت نہ ہو گی کہ ہم گورے کی تقلید میں وقت کی پابندی شروع کر دیں۔ اس کے باوجود ایسے ناآقبت اندیش لوگوں کی کمی نہیں جو مسلسل اس کاوش میں جٹے رہتے ہیں کہ کسی طرح قوم بہک کر وقت کی پابندی شروع کر دے، لیکن جب تک ہم جیسے ملک و قوم کے خیررخواہ ہیں؛ ہرگز ہرگز یہ  ظلم نہ ہونے دیں گے، کوئی کوشش تو کر دیکھے، اس سے ہاتھ باندھ کر معافی نہ منگوائی، زمین پر ناک نہ رگڑوائی تو کہیئے گا۔ اجی جناح صاحب، یہ تو آپ کی دید ہے، آپ کی وجہ سے ہم چپ ہیں ورنہ تعزیراتِ پاکستان میں کم از کم کالے پانی کی سزا رکھواتے اُن تمام لوگوں کے لئے جو گوروں کی تقلید میں پابندئ وقت  جیسی علت کا شکار ہوتے۔

جناح صاحب، قسم دے کر کہیں کیا ہم آپ کے اقوال صبح شام ٹی وی پر نہیں چلاتے؟ کس سرکاری دفتر میں آپ کی تصویر نہیں؟ (ہاں یہ ضرور ہے کچھ عرصے سے شہیدوں کی تصویریں زیادہ نمایاں ہیں، لیکن ہمیں پتہ ہے آپ بڑے ظرف کے ہیں، اِن چھوٹی موٹی باتوں کو پرسنل نہیں لیتے) اور تو اور آپ کا  ذکر کئے بغیر  کسی سیاست دان کی تقریر مکمل ہوتی ہے نہ آپ کے افکار و تعلیمات کی دہائی دئے بغیر کسی “اینکر” کا ٹاک شو ہٹ ہوتا ہے۔ آپ کے مزار پہ گارڈ  بھی لگا دی، سلامی بھی ہوتی ہے! موسمی یا بےموسم کا، جیسا بھی ہو ہر “چیف ایگزیکٹیو” حلف اٹھانے کے بعد سیدھا آپ کے مزار پہ “روحِ قائد” سے وعدے کے لئے حاضری بھی دیتا ہے (یہ البتہ ہم ضرور جاننا چاہیں گے وہ وعدے ہوتے کیا ہیں)۔ آپ کی چیزوں کو بھی میوزیم میں  سنبھال کر رکھا ؛ آخر کیا نہیں کیا آپ کےٖٖلئےہم نے؟ اب ایک بات آپ ہماری مان لیں اور یہ وقت کی پابندی کے بارے میں بےوقت کا راگ رہنے دیں تو  کیا جاتا ہے آپ کا؟

اور ہاں جناح صاحب، آپ کی اطلاع کے لئے یہ بھی عرض کر دوں کہ آج کے انسان نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ وہ مثال “گیا وقت ہاتھ نہیں آتا” بھی غلط ثابت کر دی ہے، کم از کم پاکستان کی حد تک۔ کاش، آپ ہوتے تو دیکھتے کہ سوائے کچھ چیزوں کے، پاکستان آج بھی وہیں کھڑا ہے جہاں اور جیسا آپ چھوڑ کر گئے تھے۔ مثلاً جتنی بجلی آپ کے زمانے میں بنتی تھی حرام ہے جو ہم نے اس سے ذرا بھی زیادہ ہونے دی ہو؟ ہاں درمیان میں کچھ فضول قسم کے لیڈران نے کوشش کی کہ آپ کا پاکستان بدل دیں، کچھ ڈیم بنائے، کچھ بجلی گھرچلائے، کچھ سڑکیں بچھائیں، وغیرہ وغیرہ، لیکن ہم نے بھرپور جدوجہد میں کمی نہ آنے دی اور “غداروں” کی ہزار کوشش کے باوجود پاکستان کوایک انچ آگے نہ بڑھنے دیا۔ اب آپ کہیں، ہم نے گیا وقت دوبارہ پکڑکے دکھایا یا نہیں؟

تو بات شروع ہوئی تھی گھڑیاں آگے کرنے سے، وہ بھی پاکستان کی تاریخ کا ایک عجب ہی دور تھا۔ کسی سے وقت طے کرتے ہوئے یہ بھی بتانا پڑتا تھا کہ وقت “نیا ” یا “پرانا”، اور یہ اس لئے نہیں پوچھا جاتا تھا کہ وقت کی پابندی کرنے ہے، بلکہ کتنی تاخیر کرنی ہے اس کا حساب رکھنے کے لئے۔ بعض لوگوں کو ہم نے دو دو گھڑیاں باندھے بھی دیکھا،  آفرین ہے دُھن کے پکوں پر، پورا پورا اہتمام تھا کہ کہیں وقت پہ کوئی کام نہ ہونے پائے۔ ایسے ہی ایک دوست ،جن کی حادثاتی  ولادتِ باسعادت سے لیکر  حالِ بے حال تک کچھ بھی وقت اور طریقے سے نہ تھا، کو جب ہم نے کسی موقع پہ مدعو کیا تو وقت کے بجائے تاریخ بتا کرآنے کو کہا۔ حضرت سیخ پا ہو گئے اور وقت جاننے پہ مصر ہو گئے، میں نے عرض کی “جناب،آپ نے کون سا وقت پہ آنا ہے جو آپ اس قدر شدو مد سے وقت جاننا چاہ رہے ہیں؟” تو جواب ملا “اسی لئے تو، اب وقت پتہ نہیں، کہیں میں انجانے میں غلطی کر بیٹھا اور وقت پر پہنچ گیا تو ؟”، خدشہ ایسا تھا کہ وقت بتاتے ہی پڑی۔ کچھ احباب کا تو یہ بھی ماننا ہے کہ  وقت کے ساتھ چلنے والا درحقیقت “ابن الوقت” ہوتا ہے، اور مرد تو وہ ہے جو وقت کو “پتر” بنائے، تب ہی بہادری مسلمہ ہو گی۔

تو سلام پیش کرتا ہوں، اس بہادر قوم کو، جو وقت کو پتر بنانے کے لئے دل و جان سے کوششوں میں مصروف ہیں، اور کوئی بعید نہیں، وقت ہی ہاتھ جوڑ کر ان سے معافی مانگے کہ “بھائی، جیسے چلاو گے چلوں گا، بس میرے ٹکڑے نہ کرو، مجھےنئے پرانے میں تقسیم نہ کرو، آپ آقا میں غلام، آپ پیو میں پتر” ……

پھر فقیرا روئے نہ تو کیا کرے؟





Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Comments

comments

Leave a comment

All fields marked (*) are required